“جب روحانیت کاروبار بن جائے تو پگڑی صرف ایک اداکارانہ پروپ رہ جاتی ہے!”

موصوف کا نام **صاحبزادہ سلطان محمد علی باھو** ہے، جو مشہور صوفی بزرگ **حضرت سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ** کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر ان کا طرزِ زندگی روحانیت سے زیادہ رُوپ، شہرت اور شاہانہ نمائش سے جُڑا ہوا نظر آتا ہے۔

ماڈلنگ ہو، جِیب ریس یا گھوڑا دوڑ، موصوف ہر اس مقام پر نظر آتے ہیں جہاں کھیل، شہرت یا پیسہ ہو۔ ان کا لائف اسٹائل مہنگا، دکھاوٹی اور عیش و عشرت سے بھرپور ہے۔ ماہی گیر کی طرح مہینے میں ایک آدھ بار “پیرانہ” گیٹ اَپ کے ساتھ دربار میں نمودار ہوتے ہیں، جہاں غریب مریدوں سے نذرانے وصول کر کے دوبارہ اپنی دنیاوی مصروفیات میں لوٹ جاتے ہیں۔

یہ واحد پیر ہیں جنہوں نے باقاعدہ **ٹک ٹاک** پر اکاؤنٹ بنایا ہوا ہے، جہاں وہ اپنے “اداکاری” کے جوہر دکھاتے ہیں اور مرید ان کو “ولیاں دا بادشاہ تے پیراں دا پیر سونا سلطان محمد علی بدر منیر” جیسے القابات سے نوازتے ہیں۔

ضلع جھنگ میں واقع حضرت سلطان باھو کے دربار کو انہوں نے اپنی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ روحانیت کے نام پر ایک ایسی **دکان** چل رہی ہے، جہاں ایمان، عقیدہ اور غریبوں کی جیبیں سب بیک وقت خالی کی جا رہی ہیں۔

اسلام اور اولیاء کے نام پر **پیری مریدی کی یہ فیکٹریاں** صرف پیسہ ہی نہیں، عقیدتیں بھی تباہ کر رہی ہیں۔
یہ وقت ہے کہ ایسے “ڈبہ پیروں” کو **بے نقاب** کیا جائے، تاکہ اصل روحانیت کی روشنی عام انسان تک پہنچ سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں