“جب زمین لرزی، ہاتھیوں نے اپنے بچوں کو یوں محفوظ بنایا”
یہ ایک عام دن تھا، جیسے دنیا کے دوسرے دن ہوتے ہیں۔ لیکن پھر زمین نے کروٹ لی، فضاء میں عجیب سی گونج پیدا ہوئی، اور لمحوں میں سکون کا منظر خوف میں بدل گیا۔ بات ہو رہی ہے امریکہ میں آنے والے حالیہ زلزلے کی، جس نے نہ صرف انسانوں بلکہ جنگلی جانوروں کی دنیا کو بھی لرزا کر رکھ دیا۔ مگر اس خوفناک لمحے میں ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے ہر دیکھنے والے کا دل چھو لیا — ہاتھیوں کا اپنی اولاد کو تحفظ دینے کا انداز۔
جیسے ہی زمین ہلی، چڑیا گھر میں موجود ہاتھی گھبرا گئے۔ مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان کی گھبراہٹ بے ترتیبی میں نہیں، بلکہ ایک منظم اور قدرتی شعور پر مبنی تھی۔ بالغ ہاتھی، خاص طور پر مادائیں، فوراً اپنی چھوٹی عمر کے بچوں کو اپنے جسم کے حصار میں لے آئیں۔ کچھ نے اپنے جسم کو بچوں کے گرد اس انداز میں پھیلایا کہ جیسے وہ زندہ دیوار ہوں، اور اگر کچھ گرتا بھی تو پہلے وہ خود سہیں، ان کے بچے نہیں۔
یہ وہ لمحہ تھا جب قدرت نے ہمیں دکھایا کہ محبت، حفاظت اور قربانی کا جذبہ صرف انسانوں تک محدود نہیں ہوتا۔ ماں، چاہے انسان کی ہو یا ہاتھی کی، اس کی فطرت میں ایک ہی جذبہ ہوتا ہے — تحفظ۔ ان ہاتھیوں کی آنکھوں میں پریشانی تھی، مگر خوف کے ساتھ ساتھ ایک غیر متزلزل عزم بھی جھلک رہا تھا: “جب تک ہم ہیں، ہمارے بچے محفوظ ہیں۔”
ماہرین حیوانات کے مطابق جانور، خاص طور پر ہاتھی، زلزلے یا کسی بھی فطری آفت سے پہلے زمین کی گہرائیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی حساسیت انہیں بہت کچھ قبل از وقت بھانپ لینے میں مدد دیتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر انسانوں سے پہلے ردِعمل دیتے ہیں۔
لیکن اس واقعے میں صرف ان کا ردِعمل ہی نہیں، بلکہ ان کا رشتہ نمایاں تھا — ماں اور بچے کا رشتہ، ایک خاندان کی حفاظت کا تصور، ایک دوسرے کے لیے ڈھال بن جانے والا فطری رویہ۔ زلزلے نے اگرچہ زمین کو ہلایا، لیکن ساتھ ہی ہاتھیوں کے ذریعے ایک ایسا سبق بھی دیا جو شاید الفاظ میں نہ سمجھایا جا سکے: حفاظت، قربانی اور پیار فطرت کی سب سے خوبصورت زبان ہے۔
جب دنیا میں فطرت خود درس دے، تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ شاید انسانوں کو بھی اب جانوروں سے سیکھنے کی ضرورت ہے — خاص طور پر یہ کہ بحران کے وقت گھبراہٹ نہیں، بلکہ اتحاد، ہمت اور پیار ہی اصل طاقت ہیں۔
یہ واقعہ صرف ایک زلزلہ نہیں تھا — یہ محبت کی زباں میں لکھی گئی ایک لازوال کہانی تھی، جو شاید کبھی بھلائی نہ جا سکے۔




