جب دشمن کی آنکھ دیوار کے پار دیکھ سکتی ہے، تو صرف جذبات کافی نہیں رہتے—علم، تیاری اور ٹیکنالوجی وقت کی ضرورت ہے۔
حالیہ دنوں مظفرآباد، آزاد کشمیر کی ایک مصروف آبادی میں واقع مسجد پر بھارتی ڈرون حملہ ایک ایسی حقیقت کو آشکار کرتا ہے جو ہم اکثر نظرانداز کرتے ہیں—یہ حملہ صرف ایک ہدف پر نہیں، ہماری غفلت، کمزور انٹیلیجنس اور ناقص دفاعی تیاریوں پر ایک کاری ضرب تھی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے دشمن کی آنکھ ہر دیوار کے آر پار دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اسی قسم کی حیران کن مہارت اسرائیل نے اس وقت دکھائی جب اس نے ایران کے اندر ایک بلند رہائشی عمارت کے مخصوص فلیٹ کو نشانہ بنایا۔ فلیٹ میں موجود ایک اہم کمانڈر کو بالکل درست طریقے سے بیڈروم میں نشانہ بنایا گیا—میزائل دیوار توڑتا ہوا اندر جا گرا، لیکن عمارت کے باقی کسی حصے کو خراش تک نہ آئی۔
یہ صرف جدید میزائل کا کمال نہیں، بلکہ موساد کی غیر معمولی انٹیلیجنس صلاحیت، ٹیکنالوجی پر گرفت، اور عملی منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
المیہ یہ ہے کہ آج بیشتر اسلامی ممالک محض بیانات، مذمتی قراردادوں اور وقتی ہمدردی کے نعروں تک محدود ہو چکے ہیں۔ میدانِ جنگ میں جہاں دشمن آگے بڑھ رہا ہے، ہم صرف ردِعمل دینے اور غصے کا اظہار کرنے میں مصروف ہیں۔
دنیا اس وقت ایک نئے جنگی دور میں داخل ہو چکی ہے—یہاں نہ نعرے کام آتے ہیں، نہ جذبات۔ صرف وہی قومیں زندہ رہ سکتی ہیں جن کے پاس علم، ٹیکنالوجی، فیصلہ کن قیادت اور حکمت عملی پر مبنی تیاری ہو۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف تماشائی نہ بنیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام، انٹیلیجنس نیٹ ورک، دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی میں خود کفالت کی طرف حقیقی قدم اٹھائیں۔
ورنہ تاریخ ہمیں صرف ایک بے بس تماشائی کے طور پر یاد رکھے گی—جن کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا، کرنے کو کچھ نہیں۔




