“جب طاقت اسمبلی میں نہیں، تو پھر سیاسی نعرے اور تصویریں کس کام کی؟”

حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا کھیل

محمد زبیر کی باتوں میں شاید ہماری حکومت کو ایک تلخ سچائی کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اصل طاقت فوج کے پاس ہے۔ وہ کہتے ہیں،
“میں ہمیشہ کہتا ہوں اسٹیبلشمنٹ سے ہی بات کرنی چاہیے کیونکہ ساری طاقت ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے۔ دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے۔ امریکہ کا صدر بھی بات کرتا ہے تو انہی سے کرتا ہے، چین کو بھی پتہ ہے کہ طاقت کس کے پاس ہے۔”

یہ کوئی راز نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے عام لوگ سمجھتے ہیں، لیکن شاید ہماری حکومت کو بار بار یاد دلانا پڑتا ہے کہ سیاست صرف اسمبلی کی چار دیواری یا ووٹ کے صندوق کا کھیل نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک بالکل الگ “گیم چینجر” موجود ہے۔ وہ گیم چینجر جو ہر فیصلہ سازی کا محور ہے اور جسے نظرانداز کرنا مہنگا پڑتا ہے۔


حکومت کے نعرے اور حقیقت کا تضاد

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب طاقت ہی کہیں اور ہو، تو حکومت کی طرف سے کئے جانے والے دعوے، پریس کانفرنسز، اور سیاسی جلسوں میں نعرے بازی کا کیا فائدہ؟ لوگ کہیں تو یہ بھی سوچتے ہیں کہ مریم نواز کے پوسٹرز اور تصویریں لگوانا بھی ایک طرح کا دکھاوے کا شوشہ ہے، جیسے فلم کا اشتہار، جو نظر تو آتا ہے مگر حقیقت میں کچھ نہیں بدلتا۔

یہ سیاسی چالاکی بھی ایک فن ہے: عوام کو مصروف رکھنا، انہیں تصویروں اور نعروں میں بہلانا، تاکہ اصل طاقت کے راز پر پردہ پڑا رہے۔ مگر جب عوام تھک جاتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر اصل طاقت کس کے پاس ہے، تو جواب میں صرف خاموشی یا کچھ غیر اہم دعوے ملتے ہیں۔


عوام کے لیے کیا ہے؟

شاید اب حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ عوام کو صرف نعرے اور تصویریں نہیں، بلکہ اصلی طاقت اور فیصلہ سازی چاہیے۔ جمہوریت کی اصل روح اسی میں ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے آزادانہ اور خودمختار ہوں، نہ کہ طاقت کے حقیقی مرکز کے ہاتھوں قابو پائے جائیں۔

ورنہ سیاست ایک ایسا “شو” بن جائے گی، جہاں ہر چیز دکھائی جائے، مگر کچھ بھی بدلتا نہیں۔ عوام کے مسائل وہی رہیں گے، فیصلے وہی ہوں گے، اور طاقت کی اصل چابی کسی اور کے ہاتھ میں۔

پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے، اور یہ حقیقت کسی سے چھپی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری حکومت اور سیاسی قیادت اس تلخ حقیقت کو قبول کر کے عوام کے لیے بہتر فیصلے کرنے کی ہمت دکھائے گی، یا وہ بس نعرے بازی اور تصویریں لگا کر وقت گزاری کرتی رہے گی؟

اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو سیاست کا یہ “شو” کبھی حقیقی تبدیلی نہیں لا سکتا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں