جب پانی چھتوں سے اونچا ہو جائے، تو انسان صرف خدا سے اُمید رکھتا ہے۔
جب پانی چھتوں سے اونچا ہو جائے، تو انسان صرف خدا سے اُمید رکھتا ہے۔ یہی منظر اس وقت جنوب مشرقی آسٹریلیا کے سیلاب زدہ علاقوں میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ طوفانی بارشوں نے وکٹوریا اور نیو ساؤتھ ویلز میں تباہی مچا دی ہے۔ دریا اپنے کنارے توڑ چکے ہیں، گلیاں اور محلے جھیلوں میں بدل چکے ہیں۔ لوگ گھروں کی چھتوں پر پناہ لیے بیٹھے ہیں، اور آنکھوں میں ایک ہی سوال ہے: “اب کیا ہوگا؟”
سیلاب کے باعث چار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ دسیوں ہزار لوگ محصور ہیں۔ امدادی ٹیمیں مسلسل کوشش کر رہی ہیں کہ پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے، لیکن ہر طرف پانی ہی پانی ہے۔ سڑکیں کٹ چکی ہیں، پل بہہ گئے ہیں، اور کئی علاقے مکمل طور پر دنیا سے کٹ چکے ہیں۔
بجلی اور پانی کی فراہمی معطل ہے، انٹرنیٹ اور فون سروسز بند ہیں، اور کئی علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء نایاب ہو چکی ہیں۔ ان حالات میں لوگ چھتوں پر بیٹھ کر صرف ایک سمت دیکھ رہے ہیں، آسمان کی طرف۔ کیونکہ جب زمین ساتھ چھوڑ دے، تو انسان کو آسمان ہی نظر آتا ہے۔
اس قدرتی آفت نے ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے رکھ دی ہے کہ ہم قدرت کے سامنے کس قدر بے بس ہیں۔ لیکن یہ وقت صرف افسوس یا تجزیہ کرنے کا نہیں، بلکہ انسانیت کے ناطے ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہونے کا ہے۔ دعاؤں کے ساتھ عملی مدد کی ضرورت ہے۔ یہ ایک آزمائش ہے، اور اس میں صرف وہی سرخرو ہو گا جو کسی اور کے آنسو پونچھنے کے لیے اپنا دامن آگے کرے۔




