جب اپنی ہی فوج آواز بلند کرے، تو سمجھ لیں کہ حکومت کی پالیسی زمین پر نہیں، دیوانگی پر مبنی ہے!
اسرائیلی ریزرو فوجیوں کی بغاوت: “غزہ پر قبضے کا فیصلہ ایک جنونی حکومت نے کیا ہے”
پریس کانفرنس میں شدید تنقید: اسرائیلی فوجی ضمیر کی آواز بن گئے
اسرائیلی ریزرو فوجیوں کے ایک گروپ نے حالیہ پریس کانفرنس میں غزہ پر دوبارہ قبضے کے حکومتی فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ:
“غزہ پر قبضے کا فیصلہ ایک ایسی جنونی اور انتہا پسند حکومت نے کیا ہے، جس کی اپنی عوام میں کوئی حقیقی حیثیت اور اخلاقی جواز باقی نہیں رہا۔”
یہ بیان نہ صرف اسرائیلی حکومت کے جنگی عزائم پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ اندرونی خلفشار اور فوج و حکومت کے درمیان خلیج کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
ریزرو فوجیوں کی مخالفت کیوں اہم ہے؟
-
یہ فوجی وہ افراد ہیں جو میدانِ جنگ میں براہِ راست خدمات انجام دے چکے ہیں۔
-
ان کے بیانات صرف سیاسی نہیں، عملی مشاہدے اور تجربے پر مبنی ہوتے ہیں۔
-
ان کی مخالفت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ غزہ پر قبضہ ایک تباہ کن اور ناقابلِ جواز فیصلہ سمجھا جا رہا ہے—حتیٰ کہ اسرائیل کے اندر بھی۔
اسرائیل کی اندرونی تقسیم گہری ہو رہی ہے
گزشتہ چند مہینوں میں نیتن یاہو حکومت کو اندرونی سطح پر بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا ہے، خاص طور پر:
-
عدالتی اصلاحات کے خلاف عوامی مظاہرے
-
فوجی افسران اور سیکیورٹی اداروں کے تحفظات
-
غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
اب جب کہ ریزرو فوجی بھی حکومتی پالیسیوں پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں، یہ اسرائیلی نظامِ حکمرانی کے اندر شدید بحران کی عکاسی کرتا ہے۔
نتیجہ: دنیا دیکھ رہی ہے، آوازیں بلند ہو رہی ہیں
اسرائیلی فوج کے سابق اور موجودہ اہلکار جب اپنی ہی حکومت کو “جنونی” قرار دیں، تو یہ محض اختلاف نہیں، ایک اخلاقی بیداری کا ثبوت ہے۔
یہ بیان دنیا بھر کے ان لاکھوں لوگوں کے مؤقف کو تقویت دیتا ہے جو غزہ پر حملوں اور قبضے کو ظلم، ناجائز اور غیر انسانی قرار دے رہے ہیں۔




