’’اب ایران کے بعد اگلا ہدف کون؟‘‘ — فرقوں میں بٹنے کی قیمت اور خطے کا خطرناک مستقبل.

آج ہم تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی صورتِ حال نہایت نازک اور پیچیدہ ہو چکی ہے۔ ایران پر حملوں اور کشیدگی کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگلا ہدف کون ہوگا؟ اور کیا ہم واقعی فرقوں میں بٹ کر اپنی سب سے بڑی دشمنی یعنی بیرونی مداخلت کو بھول چکے ہیں؟

فرقوں میں بٹنے کا خطرہ:
ہماری سب سے بڑی کمزوری داخلی تقسیم ہے۔ فرقہ واریت نے ہمیں آپس میں لڑایا، ہماری توانائی برباد کی، اور ہمیں وہ دشمن نظر نہیں آئے جو اصل میں خطے کی سلامتی کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ اگر ہم متحد نہ ہوئے تو:

ہمیں خطے کے اندرونی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑے گا

خارجی طاقتیں ہمارے ملکوں کو اپنی مرضی سے قابو پانے کے لیے استعمال کریں گی

امن کا خواب مزید دور ہو جائے گا

خطے کے خطرناک منظرنامے:
آپ نے بالکل درست کہا کہ اس وقت ہمارے اطراف:

ایک طرف بھارت ہے، جو اپنی فوجی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے

دوسری طرف افغانستان ہے، جہاں بے چینی اور عدم استحکام جاری ہے

اور تیسری طرف ایران ہے، جو اگر امریکہ یا کسی اور عالمی طاقت کے قبضے میں آ گیا تو خطے کی صورتحال ناقابلِ برداشت ہو جائے گی

اگر بارڈر کے اس پار 400 سے زائد جنگی طیارے سرگرم ہو جائیں، تو اس کا مطلب ہے کہ خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کا خدشہ انتہائی قریب ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں اپنی وحدت، اتحاد، اور قومی یکجہتی پر کام کرنا ہوگا، تاکہ ہم اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکیں۔

تاریخی سبق:
تاریخ ہمیں بارہا یہ سکھاتی ہے کہ تقسیم، نفرت اور عدم برداشت نے ہمیشہ قوموں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ سے سبق لینا ہوگا کہ:

داخلی اختلافات کو کمزور کرنے کے بجائے، ان کے خاتمے کی کوشش کریں

فرقوں، قومیتوں اور مذہب سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے اور رواداری کا رویہ اپنائیں

مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہوں، تاکہ ہماری سلامتی اور ترقی ممکن ہو سکے
ایران کے بعد اگلا ہدف کون ہوگا، یہ کوئی معلوم نہیں، لیکن اگر ہم داخلی خلفشار اور فرقہ واریت کو جاری رکھیں گے تو ہمیں خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمیں اپنی وحدت کو مضبوط کرنا ہوگا اور تاریخ کی تلخیاں نہ دہرانی ہوں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں