“معافی ہم کیوں مانگیں؟ جنہوں نے آئین توڑا، اُنہیں معافی مانگنی چاہیے!” — علی امین گنڈا پور کا دوٹوک پیغام
اسٹیبلشمنٹ پر کھلی تنقید، آئینی دائرہ کار کا مطالبہ
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور پاکستان تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما علی امین گنڈا پور نے حالیہ بیان میں اسٹیبلشمنٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ:
“معافی وہ مانگتا ہے جو غلطی کرے، ہم نہیں، بلکہ معافی اسٹیبلشمنٹ کو مانگنی چاہیے جنہوں نے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا، ہم پر جھوٹے پرچے بنائے، اور ملک میں آئینی و جمہوری نظام کو پامال کیا۔”
ان کا یہ بیان سیاسی حلقوں، میڈیا اور عوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے—کیا پاکستان کے طاقتور اداروں کا سیاسی کردار اب بھی برقرار ہے؟
“معافی سے باہر نکلیں، انا چھوڑیں، ملک کو آگے لے کر چلیں”
علی امین گنڈا پور نے اپنے بیان میں مفاہمت کا دروازہ بھی کھلا رکھا، لیکن ایک مضبوط شرط کے ساتھ۔
ان کا کہنا تھا:
“معافی سے باہر نکلیں، انا سے باہر نکلیں۔ جو کچھ ہوا اسے ختم کریں، ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں، اور ملک کو آگے لے کر چلیں۔”
یہ جملہ محض سیاسی تنقید نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے—اگر ملک کو ترقی دینی ہے تو تمام طاقتور اداروں کو اپنی حدود میں واپس آنا ہوگا۔
“ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں”
گنڈا پور نے آئینی دائرہ کار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا:
“ہماری پالیسی بہت واضح ہے: پاکستان کا ہر ادارہ صرف اپنی آئینی حدود میں کام کرے۔ نہ کسی کو حکومت میں لانا کسی ادارے کا کام ہے، نہ کسی کو ہٹانا۔ یہ عمل جمہوریت کی نفی ہے اور اسے اب بند ہونا چاہیے۔”
یہ بیان اُن تمام قوتوں کے لیے وارننگ ہے جو ماضی میں سیاسی جوڑ توڑ، انجینئرنگ اور اقتدار کی “پردے کے پیچھے” سازشوں میں ملوث رہی ہیں۔
“ہم نے مقدمات، جیلیں، ظلم سب برداشت کیے، مگر مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے”
تحریک انصاف کے رہنما نے واضح کیا کہ اُن کی جماعت اور قیادت نے ہر قسم کے دباؤ، الزامات اور مقدمات کے باوجود اپنے مؤقف سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں کیا۔
“جھوٹے مقدمات، بدترین سیاسی انتقام، میڈیا پر پابندیاں—یہ سب ہم نے برداشت کیا۔ لیکن ہم حق اور آئین کی بات کرتے رہے۔ یہی ہماری طاقت ہے۔”
سیاسی مفاہمت کا عندیہ، مگر “برابری” کی بنیاد پر
علی امین گنڈا پور کے بیان کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے سیاسی مفاہمت کا راستہ بند نہیں کیا، مگر اس کے لیے لازمی شرط رکھی کہ تمام فریق، خاص طور پر اسٹیبلشمنٹ، اپنی آئینی حیثیت کو تسلیم کریں۔
یہ ایک طرح سے پیغام ہے کہ:
-
ہم بات چیت سے انکار نہیں کر رہے
-
لیکن ہم سرنڈر بھی نہیں کریں گے
-
سب فریق برابری کی سطح پر آئیں، تو آگے بڑھا جا سکتا ہے
تجزیہ: نیا بیانیہ یا پرانے زخموں کی گونج؟
علی امین گنڈا پور کا یہ بیان پاکستان کی موجودہ سیاسی فضا میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
یہ نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر سوال اٹھاتا ہے، بلکہ سیاسی جماعتوں کو جمہوری اصولوں پر اکٹھا ہونے کا مشورہ بھی دیتا ہے۔
مگر اصل سوال یہ ہے:
کیا پاکستان کا طاقتور طبقہ واقعی “انا” سے باہر آ کر جمہوری تقاضے ماننے کو تیار ہے؟
پاکستان کی سمت کا فیصلہ اب بھی باقی ہے
یہ بیان ایک طرف سیاسی دباؤ کا اظہار ہے، اور دوسری طرف اصلاح کا موقع بھی۔
اگر ادارے واقعی اپنی حدود میں آ جائیں، اور سیاسی جماعتیں آزاد فیصلے کر سکیں، تو پاکستان جمہوری استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
ورنہ الزامات، معافیاں، اور بیانات کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔



