اسرائیل نے حملہ کر دیا — دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی کارروائی!

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں آج علی الصبح زوردار دھماکوں نے ہر طرف خوف و ہراس پھیلا دیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق یہ دھماکے اسرائیل کی جانب سے کیے گئے فضائی حملے تھے، جن میں حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے ایک غیر معمولی اور بین الاقوامی سطح پر خطرناک سمجھی جانے والی کارروائی ہے، کیونکہ قطر نہ صرف ایک خودمختار ملک ہے بلکہ خطے میں سفارتی توازن کا اہم مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکوں کے فوراً بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، اور دوحہ میں موجود سفارتی عملے کو الرٹ کر دیا گیا۔

اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حماس کے چند اعلیٰ رہنما ایک خفیہ مقام پر ملاقات کر رہے تھے، جسے انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ قطر کی حکومت نے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن سفارتی حلقے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

حماس نے حملے کو “قطر کی خودمختاری پر براہ راست حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ “اسرائیل خطے میں آگ بھڑکانا چاہتا ہے، جس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔”

اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ، اقوام متحدہ اور عرب دنیا، اسرائیل کے اس جرات مندانہ اور ممکنہ طور پر اشتعال انگیز اقدام پر کیا ردعمل دیتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں