“اسرائیلی حملے کے بعد ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہنگامی رابطہ، خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ!”
“اسرائیلی حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، قطری عوام کے ساتھ ہیں۔”
اسرائیلی حملے کے بعد ٹرمپ اور نیتن یاہو کی گفتگو – خطے میں نئی کشیدگی کی لہر؟
“غیر ملکی اخبار کا انکشاف: اسرائیلی حملے کے بعد ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہنگامی رابطہ، عالمی منظرنامے پر سنگین سوالات اُٹھنے لگے!”
تفصیلی تجزیہ:
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے ایک اہم اور متنازع حملے کے فوراً بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک “ہنگامی اور نجی” ٹیلیفونک گفتگو کی۔ یہ رابطہ منگل کے روز اس وقت ہوا جب حملے کے عالمی اثرات پر تشویش بڑھتی جا رہی تھی۔
پس منظر:
اسرائیل نے حالیہ دنوں میں ایک ایسا حملہ کیا ہے جسے کئی بین الاقوامی حلقے “اشتعال انگیز” اور “خطرناک” قرار دے رہے ہیں۔ حملے میں متعدد عام شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر اقوام متحدہ، یورپی یونین، اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسی صورتحال کے تناظر میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان یہ ہنگامی رابطہ سامنے آیا ہے، جس نے سیاسی و سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
گفتگو میں کیا ہوا؟
ذرائع کے مطابق، ٹرمپ نے نیتن یاہو کو امریکی عوام کی “اخلاقی حمایت” اور اپنی ذاتی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی ہوئی مزاحمتی تحریکوں، ایران کے ممکنہ ردعمل، اور عالمی سفارتی دباؤ پر بھی گفتگو کی۔
مبصرین کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے اس موقع پر نیتن یاہو سے رابطہ دراصل ایک سیاسی چال بھی ہو سکتی ہے، جو وہ اپنی 2024 کی انتخابی مہم میں استعمال کر سکتے ہیں۔ کچھ حلقے اس گفتگو کو “غیر رسمی سفارتکاری” کا نام دے رہے ہیں، جب کہ ناقدین اسے “مداخلت” تصور کر رہے ہیں۔
عالمی ردِعمل اور تجزیے:
یہ بات اہم ہے کہ اسرائیل کے اس حملے پر عالمی سطح پر ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ مغربی دنیا میں کچھ حکومتیں اسرائیل کے حق میں بیان دے رہی ہیں، تو کچھ ممالک نے اسے کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کی نیتن یاہو سے گفتگو نے اس معاملے کو اور بھی حساس بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ:
“ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے، ٹرمپ جیسے سابق صدر کا نیتن یاہو سے رابطہ بین الاقوامی سفارتی توازن کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔”
کیا یہ صرف ایک سیاسی چال ہے؟
بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی اس گفتگو کا مقصد صرف اسرائیل کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعادہ کرنا نہیں، بلکہ یہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی کا بھی حصہ ہے۔ چونکہ ٹرمپ ایک بار پھر امریکی صدارت کے لیے انتخابی دوڑ میں شامل ہیں، لہٰذا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی “مضبوط خارجہ پالیسی” کے بیانیے کو فروغ دینا ان کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔
نتیجہ:
یہ واقعہ بظاہر ایک سادہ سفارتی رابطہ لگ سکتا ہے، مگر اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال بدستور سنگین ہوتی جا رہی ہے، تو دوسری طرف عالمی طاقتوں کی صف بندی بھی تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی یہ گفتگو ایک اہم اشارہ ہو سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی سیاست کس سمت جائے گی۔



