اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قطر پر حملے کی سخت مذمت کی، مگر اسرائیل کا ذکر نہ کر کے تنازعہ پیچیدہ کر دیا۔
جب ثالثی کی زمین پر بارود برسنے لگے، تو سفارت کی زبان بھی خاموش ہو جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بیان اور اس کی اہمیت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو قطر پر اس ہفتے کے شروع میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی، جو عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ سلامتی کونسل کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں آیا، جہاں مختلف ممالک کے مابین تنازعات اور عسکری کارروائیاں معمول بن چکی ہیں۔ کونسل نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور فوری طور پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ یہ بیان اس بات کا عکاس ہے کہ عالمی ادارے خطے کی صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور اس کا مقصد عالمی امن کے تحفظ کے لیے ایک مربوط حکمت عملی اپنانا ہے۔
اسرائیل کا نام نہ لینا: سیاسی اور سفارتی پہلو
اگرچہ حملے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی گئی تھی، لیکن سلامتی کونسل نے اس بیان میں اسرائیل کا نام شامل نہیں کیا۔ یہ امر سفارتی نقطہ نظر سے انتہائی اہم ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک میں اسرائیل کے خلاف سخت موقف رکھنے والے اور اس کی حمایت کرنے والے ممالک شامل ہیں۔ اسرائیل کا نام نہ لینے کی حکمت عملی ممکنہ طور پر اس تناؤ کو کم کرنے اور سلامتی کونسل کے اندر اتفاق رائے قائم رکھنے کی کوشش ہے۔ تاہم، اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ عالمی سطح پر مسئلے کی شفافیت اور ذمہ داری کی تقسیم میں رکاوٹیں ہیں، جو خطے میں پائیدار امن کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
قطر پر حملے کے پس منظر اور خطے میں اثرات
اس ہفتے کے آغاز میں قطر پر ہونے والے حملے نے مشرق وسطیٰ میں موجود سیاسی اور عسکری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ قطر، جو خطے کے اہم اقتصادی اور سیاسی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے، پر حملے نے نہ صرف اس کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا بلکہ اس کے اثرات پورے خلیجی خطے میں محسوس کیے گئے۔ اس واقعے کے بعد مختلف ممالک نے اپنی دفاعی چوکسی بڑھا دی ہے اور سفارتی تعلقات میں بھی سرد مہری دیکھی گئی ہے۔ کشیدگی کا یہ سلسلہ اگر جاری رہا تو خطے میں مزید عسکری تصادم اور دہشت گردی کے واقعات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جو عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی کوششیں اور عالمی برادری کا ردعمل
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشیدگی کم کرنے کے لیے جو اپیل کی ہے، وہ عالمی برادری کی امن کی خواہش کی نمائندگی کرتی ہے۔ مختلف ممالک نے اس بیان کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی کئی سفارتی حلقے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کر رہے ہیں کہ اسرائیل کا ذکر نہ کرنے سے مسئلے کی جڑ کو چھونا ممکن نہیں ہو گا۔ کچھ ممالک کا خیال ہے کہ مسئلہ کا حل صرف اس وقت ممکن ہو گا جب تمام ذمہ داروں کو کھل کر بیان کیا جائے اور ان سے عالمی قوانین کے مطابق جواب طلب کیا جائے۔ اس کے برعکس، کچھ طاقتور ممالک خطے میں اپنی سیاسی اور اقتصادی مفادات کی وجہ سے زیادہ جارحانہ موقف اپنانے سے گریزاں ہیں۔
خطے میں امن کے لیے درکار سفارتی اقدامات
مستقبل میں مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریق ایک دوسرے کے ساتھ کھلے اور شفاف مذاکرات کریں۔ اقوام متحدہ کو اس عمل میں ایک ثالث کی حیثیت سے فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے اور خطے میں تشویش کے عوامل کو ختم کیا جا سکے۔ خاص طور پر اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے سفارتی چینلز کو فعال کرنا ضروری ہے تاکہ غلط فہمیوں اور عسکری کارروائیوں کا سلسلہ ختم ہو۔
نتیجہ اور عالمی امن کے لیے توقعات
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا قطر پر حملے کی مذمت کرنا ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کا نام نہ لینا ایک پیچیدہ سفارتی مسئلہ بھی ہے۔ یہ صورتحال عالمی امن کی کوششوں کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے، اور خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے مزید جامع اور واضح حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر ایک متحد اور شفاف موقف اختیار کرے تاکہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن قائم ہو سکے اور عالمی سطح پر جنگ و تشدد کی آگ کو روکا جا سکے۔



