“امریکہ نے فلسطینی وفد کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے باہر رکھنے کی کوشش کی — لیکن دنیا نے یہ حرکت سوالیہ نشان بنا دی ہے۔”
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے اگلے اجلاس سے پہلے امریکہ کی حالیہ ویزا پابندی نے عالمی سطح پر ایک نئے سفارتی بحران کو جنم دے دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے فلسطینی صدر محمود عباس اور تقریباً 80 دیگر فلسطینی حکام کو نیویارک میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا، جو کہ سرکاری سطح پر ایک غیر معمولی اور متنازع اقدام ہے۔
یہ پیش رفت سوائے اس کے کہ منصوبہ بند اہم اجلاسوں میں شرکت منسوخ ہو سکتی ہے، کئی بین الاقوامی ضوابط اور روایات کو بھی چیلنج کرتی ہے۔ خاص طور پر، 1947 کا UN Headquarters Agreement، جس کے تحت میزبان ملک (امریکہ) پر غیر ملکی وفود کو بلا رکاوٹ اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دینے کا قانونی تقاضا ہوتا ہے۔
امریکہ کا موقف اور اس کی وجوہات
امریکی محکمہ خارجہ نے اس غیر معمولی پابندی کی وجوہات امن مذاکرات کی غیر سنجیدہ حمایت، “قانونی و مشکوک کارروائیوں” (lawfare) کا سہارا، اور دہشت گردی کی مذمت میں ناکامی کو قرار دیا ہے۔ اس نے وضاحت کی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او کو مستقل امن مذاکرات میں سنجیدگی دکھانا چاہیے اور اقوا مِ ثالثہ عدالتوں میں اسرائیل کے خلاف مقدمات اور ریاست تسلیمیت کے عمل کو روکنے کے لیے پیش رفت کرنا ضروری ہے۔The Washington PostAl Jazeera
قانونی نوعیت کے پس منظر کے مطابق، امریکی حکومت نے “PLO Commitments Compliance Act of 1989” اور “Middle East Peace Commitments Act of 2002” جیسے قوانین کا حوالہ دے کر کہا کہ PA اور PLO نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا، اور “قانونی جنگ (lawfare)” اور اقصادی یا سفارتی اقدامات سے امن کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
عالمی ردعمل اور تنقید
پالیسی پر عالمی سطح پر شدید تنقید اور احتجاج دیکھا گیا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اسے “ناقابل قبول” قرار دیا اور امریکی فیصلے کی فوری طور پر واپسی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی ہیڈکوارٹرز معاہدے کی روح کے خلاف ہے، جس میں فلسطینی نمائندوں کو شرکت کی اجازت ہونا لازمی ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بھی امریکی فیصلہ شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے مقصد کے خلاف ہے، جہاں دنیا کے مسائل پر بات چیت اور حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکہ اپنا فیصلہ واپس لے، ورنہ خطے میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچے گا۔
عربی و اسلامی باہمی رابطہ کونسل (Arab‑Islamic Gaza Committee) نے بھی اس اقدام کو “قانونی معاہدہ کی خلاف ورزی” قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلے مذاکرات کے دروازے کو بند کرتے ہیں اور بحران کو حل کرنے کی راہ مسدود کرتے ہیں۔
پالیسٹینی ردعمل
فلسطینی دفتر نے اس امریکی فیصلے پر “گہرا صدمہ اور حیرت” کا اظہار کیا، اور اسے اقوامِ متحدہ کی قائم کردہ قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادران سے مدد اور دباؤ ڈالنے کی اپیل کی، تاکہ یہ فیصلہ واپس لیا جائے۔
فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ نے ایک خط بھی امریکی وزیر خارجہ کو لکھا، جس میں کہا گیا کہ اس اقدام سے مذاکرات اور امن عمل کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، اور امریکہ کی عالمی قیادت کے خلاف منفی تاثر بنتا ہے۔
مؤثر بین الاقوامی رسپانس اور بدلے ہوئے منظرنامے
یہ حرکت UNGA کے دوران ایک روزہ عالمی کانفرنس — جو 22 ستمبر کو نیویارک میں منعقد ہونا تھی، اور فرانس و سعودی عرب کی زیرِ قیادت دو ریاستی حل کو دوبارہ تحریک دینے کا مقصد رکھتی تھی — کو جنیوا منتقل کرنے کی درخواستوں کو ہوا دے رہی ہے۔بھاری سیاسی مواقع میں شرکت سے روکنے کی یہ حکمت عملی، تاریخ میں پہلی مرتبہ فلسطینی وفد کو مکمل طور پر روکنے کے مترادف ہے، جس سے اوسلو معاہدے کے بعد جنوبی فلسطینی قیادت کے اہم ترین فورمز میں شرکت پر بھی اثر پڑے گا۔
خلاصہ جدول
| پہلو | تفصیل |
|---|---|
| امریکی اقدام | فلسطینی صدر اور 80 حکام کو اقوامِ متحدہ میں شرکت سے روکنا |
| امریکی جواز | قانون، قانون بازی (lawfare)، دہشت گردی کی حمایت |
| قانونی مسئلہ | 1947 کا UN Headquarters Agreement کی خلاف ورزی |
| عالمی ردعمل | فرانس، ترکی، عرب لیگ سمیت ایسا فیصلہ ناقابل قبول قرار |
| فلسطینی ردعمل | صدمہ، تحفظات، اور فیصلہ بدلنے کی اپیل |
| ممکنہ تبدیلی | اجلاس کے مقام کو نیویارک سے جنیوا منتقل کرنے کی بات بھی سامنے |
امریکہ کی جانب سے فلسطینی وفد کو رواں برس اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت سے روکنے کا غیر معمولی قدم، نہ صرف عالمی قانون کے سنگین معیاروں کو روندتا ہے بلکہ امن مذاکرات اور دو ریاستی حل پر مستقبل کے مذاکرات کے راستے کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یہ اقدام صرف فلسطینی عوام نہیں بلکہ بین الاقوامی سفارتی ترتیب کو بھی تہہ و بالا کر سکتا ہے، اور سوال اٹھاتا ہے: کیا امن کی راہ میں فائدہ مند دباؤ ہی اکھاڑ پچھاڑ کا ذریعہ بن سکتا ہے؟



