امریکہ نے قطر کی خودمختاری کی حفاظت کی یقین دہانی کراتے ہوئے وعدہ کیا کہ دوحہ پر دوبارہ حملہ نہیں ہوگا۔
امریکہ کا قطری خودمختاری کے دفاع میں اہم اعلان
امریکہ نے دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قطر کی سرزمین پر اس قسم کا کوئی حملہ دوبارہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امیر قطر، شیخ تمیم بن حمد الثانی سے فون پر بات کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کرائی کہ واشنگٹن اس واقعے کو ایک سنگین اور غیر ذمہ دارانہ حرکت سمجھتا ہے اور قطر کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔
اسرائیلی فضائی حملہ اور اس کے نتائج
یہ حملہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی فضائیہ نے دعویٰ کیا کہ وہ دوحہ میں حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اس حملے میں کم از کم چھ افراد مارے گئے، جن میں حماس کے محافظ، ایک قطری سیکیورٹی اہلکار اور دیگر شامل تھے۔ حماس کی مرکزی قیادت حملے سے بچ گئی، لیکن اس کارروائی نے قطر کی خودمختاری کو شدید نقصان پہنچایا۔ قطر نے فوری طور پر اس حملے کو ایک خودمختار ملک پر حملہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قسم کی غیر قانونی کارروائیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے، کیونکہ اس سے خطے کی سلامتی اور استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے مابین سفارتی کشیدگی
صدر ٹرمپ نے اس واقعے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے بھی براہِ راست رابطہ کیا اور واضح کیا کہ اگرچہ امریکہ حماس کے خلاف کارروائیوں کی نوعیت کو سمجھتا ہے، تاہم کسی دوست ملک کی زمین پر ایسی کارروائی ناقابل قبول ہے۔ صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ قطری حکومت کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ قطر پر دوبارہ کوئی فضائی حملہ نہ ہو۔ یہ موقف امریکہ کی اس نازک سفارتی پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے جہاں اسے اسرائیل کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے قطری خودمختاری کا بھی دفاع کرنا ہے۔
امریکی انٹیلی جنس اور ردعمل
واضح رہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیز کو حملے کی پیشگی اطلاع ملی تھی اور صدر ٹرمپ نے فوری طور پر اپنے خصوصی ایلچی کو بھیجا تھا تاکہ قطری حکام کو اس ممکنہ حملے کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔ تاہم حملے کو روکنے میں ناکامی کے بعد امریکہ نے فوری طور پر قطر کو یہ یقین دہانی کرائی کہ اس طرح کی غلطی دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی۔ یہ واقعہ امریکی انٹیلی جنس کی ناکامی اور سفارتی کوششوں کے درمیان کشمکش کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
عالمی برادری کا ردعمل اور خطے میں کشیدگی
دوحہ پر حملے کے بعد عالمی برادری سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ عرب لیگ، خلیجی تعاون کونسل، ترکی اور یورپی یونین نے اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی کہا کہ خودمختار ریاست کی سرزمین پر فضائی حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ قطر، جو مشرق وسطیٰ میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کے کردار میں تھا، اس حملے کے بعد شدید دباؤ اور کشیدگی کا شکار ہوگیا ہے۔ اس سے خطے میں سیاسی و عسکری عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے اور حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
قطر، اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات پر اثرات
یہ واقعہ قطر اور اسرائیل کے تعلقات کو ایک خطرناک موڑ پر لے آیا ہے، جس سے خطے کی سیاسی صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے قطر کی حمایت کے باوجود، اسرائیل کے ساتھ اس کا قریبی اتحادی ہونا واشنگٹن کے لیے ایک مشکل چیلنج بن گیا ہے۔ اس سیاسی توازن کو برقرار رکھنا اور دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم رکھنا امریکہ کے لیے ایک سنجیدہ سفارتی مسئلہ ہے۔ عالمی برادری اس بات سے خبردار ہے کہ اگر فوری سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئے اور شدید محاذ کا آغاز کر سکتا ہے۔
قطر پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد امریکہ کی جانب سے دی گئی یقین دہانی ایک اہم سفارتی پیغام ہے جس میں خطے کی سلامتی اور خودمختاری کو تحفظ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس واقعے نے مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ سفارتی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں امریکی، قطری اور اسرائیلی تعلقات کی کشمکش خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کشیدگی کو کم کرنے اور ایک پائیدار امن کے قیام کے لیے موثر اقدامات کرے۔



