اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے صحافیوں پر تشدد، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کی معذرت
اڈیالہ جیل کے باہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کے صحافیوں پر تشدد کے واقعے نے خبروں کی زینت بن کر ملک بھر میں تشویش اور تنقید کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس واقعے پر پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے عوام اور میڈیا سے معذرت کرتے ہوئے اس عمل کی سخت مذمت کی ہے۔
بیرسٹر گوہر خان کا اظہارِ معذرت
’’جنگ‘‘ اخبار کے مطابق، پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا:
“جو ہوا، وہ غلط ہوا اور ہمیں اس پر گہرا افسوس ہے۔ ہم اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔”
بیرسٹر گوہر خان نے میڈیا سے تعلق رکھنے والے تمام صحافیوں سے معذرت کی اور یقین دہانی کروائی کہ پارٹی ایسے واقعات کی تکرار کی اجازت نہیں دے گی۔
صحافی طیب بلوچ کے ساتھ جذباتی ملاقات
معذرت کے موقع پر بیرسٹر گوہر خان نے تشدد کا شکار ہونے والے صحافی طیب بلوچ کو گلے لگایا، جو کہ ایک مثبت اور سنجیدہ قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس جذباتی ملاقات نے ظاہر کیا کہ پارٹی قیادت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور وہ صحافیوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش مند ہے۔
میڈیا اور عوام کا ردعمل
صحافی برادری نے بیرسٹر گوہر خان کے اس اقدام کو سراہا، تاہم انہوں نے حکومت اور سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافت کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ کوئی بھی صحافی بلا خوف اپنی ذمہ داری نبھا سکے۔
ماضی کی جھلک اور پی ٹی آئی کا موقف
یہ پہلا موقع نہیں جب پی ٹی آئی کے جلسوں یا احتجاجوں کے دوران صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، لیکن اس مرتبہ پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے کی گئی معذرت ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
تعلقات کی بحالی اور ذمہ داری کا پیغام
بیرسٹر گوہر خان کی معذرت اور طیب بلوچ سے ملاقات سیاسی جماعتوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ میڈیا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور تشدد یا دھمکیوں کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا۔ اس واقعے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ سیاسی کارکنان اور پارٹی قیادت صحافیوں کے حقوق کا احترام کریں گے۔



