“تحریکِ انصاف کو کچلنے کی ہر تدبیر خود اسٹیبلشمنٹ کے گلے پڑتی جا رہی ہے!”
اسٹیبلشمنٹ کی حکمتِ عملی، یا مسلسل ناکامیوں کا سلسلہ؟
پاکستانی سیاست میں ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کا کردار ایک خاموش لیکن بااثر فریق کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ مگر 2022 کے بعد سے لے کر 2025 تک کے سیاسی منظرنامے میں جس شدت کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے خلاف اقدامات کیے، وہ غیر معمولی تھے — اور بظاہر، غیر مؤثر بھی۔
حفیظ اللہ نیازی کا یہ تجزیہ اسی پس منظر میں نہایت برملا اور بے خوف ہے کہ:
“اسٹیبلشمنٹ نے جو بھی اسکیمیں بنائیں، ایک بھی کارگر ثابت نہیں ہوئی۔”
کیا تحریکِ انصاف واقعی مٹ گئی؟ یا زمین کے نیچے جڑیں گہری ہو گئیں؟
-
سیاسی انجینئرنگ کے تحت PTI کی قیادت کو جیلوں میں ڈالا گیا
-
پارٹی کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا گیا، امیدواروں کو دھمکایا اور توڑا گیا
-
میڈیا میں بلیک آؤٹ کیا گیا، سوشل میڈیا پر بھی پابندیاں لگائی گئیں
لیکن نتیجہ کیا نکلا؟
-
2024 کے انتخابات میں PTI کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار 150 سے زائد نشستوں پر کامیاب ہوئے
-
عمران خان کی مقبولیت مزید عوامی سطح پر پھیل گئی
-
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار نوجوان طبقہ اس قدر متحرک سیاسی قوت بن کر سامنے آیا
طاقت کے زور پر دبانا: وقتی جیت، مستقل شکست؟
اسٹیبلشمنٹ کی یہ اسکیم کہ “عمران خان کو مائنس کر کے ایک نئی سیاسی صف بندی کی جائے” — بارہا ناکام ہوئی:
-
“کنگز پارٹی” بنانے کی کوششیں عوامی قبولیت حاصل نہ کر سکیں
-
عدلیہ، پارلیمان، اور الیکشن کمیشن جیسے ادارے سیاسی تنازعات کے دلدل میں پھنس گئے
-
عالمی سطح پر بھی پاکستان کی جمہوری شبیہ متاثر ہوئی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سوال اٹھے
آنے والے دن: خدشات یا بھیانک نتائج؟
حفیظ اللہ نیازی کی وارننگ سادہ نہیں:
“اب بھی جو تدبیر جاری ہے، وہ الٹی پڑنے والی ہے — اور بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔”
یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی انجینئرنگ کا سلسلہ جاری رکھا، تو:
-
ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے
-
سیاسی انتشار مستقل قومی بحران میں بدل سکتا ہے
-
نوجوانوں میں مایوسی اور شدت پسندی کا رجحان جنم لے سکتا ہے
-
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ مزید خراب ہو سکتی ہے
راستہ کیا ہے؟ مکالمہ یا محاذ آرائی؟
-
موجودہ حالات کا واحد پرامن حل سیاسی قوتوں کے درمیان مفاہمت ہے
-
اسٹیبلشمنٹ کو غیر جانبداری اختیار کرنی ہو گی
-
میڈیا اور عدلیہ کو آزاد اور بے خوف کردار ادا کرنے کی اجازت دی جائے
-
عمران خان کو بھی ضد چھوڑ کر مکالمے کی راہ اپنانی ہوگی
\ تاریخ خاموش نہیں رہتی
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقت کے زور پر کسی مقبول رہنما کو دبایا گیا، نتائج الٹے نکلے۔
خواہ وہ شیخ مجیب الرحمن ہو، یا ذوالفقار علی بھٹو، یا اب عمران خان — جب عوام کسی لیڈر سے جُڑ جاتے ہیں، تو اسٹیبلشمنٹ کی ہر اسکیم نقش بر آب بن جاتی ہے



