جب ثالثی کی زمین پر بارود برسنے لگے، تو سفارت کی زبان بھی خاموش ہو جاتی ہے۔

“قطری وزارت خارجہ کا واضح اعلان: نیتن یاہو کو اپنے حملوں اور اقدامات کا جواب دینا ہوگا!”

قطر اور اسرائیل: قربت کے باوجود نوبت حملوں تک کیوں پہنچی؟

دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں تنازعات، ثالثی، اور طاقت کے کھیل جاری ہیں، مگر حالیہ دنوں میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے — یعنی قطر جیسے ثالث ملک پر اسرائیلی حملے کی اطلاعات — وہ صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ خطے کی سفارتی بنیادوں پر سوالیہ نشان ہے۔


قطر: ثالث یا حمایتی؟

قطر نے برسوں سے حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔

  • قطر نے غزہ میں انسانی امداد، قیدیوں کے تبادلے، اور جنگ بندی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔

  • حماس کی سیاسی قیادت، خاص طور پر اسماعیل ہنیہ، قطر میں مقیم رہی ہے۔

  • قطر کو مغربی ممالک (خاص طور پر امریکہ) کی حمایت بھی حاصل رہی ہے کہ وہ حماس پر اثر انداز ہو کر خطے میں کشیدگی کم کرے۔

یہی وجہ تھی کہ اسرائیل اور قطر کے درمیان براہِ راست سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود ایک عملی قربت موجود تھی۔


پھر کشیدگی کیوں بڑھی؟

  1. حماس قیادت کا دوحہ میں موجود ہونا:
    اسرائیل نے الزام لگایا کہ حماس کی اعلیٰ قیادت قطر میں بیٹھ کر نہ صرف حماس کی عسکری سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرتی ہے، بلکہ عالمی سطح پر “نرم محاذ” سے اپنی تنظیم کو مضبوط بناتی ہے۔

  2. 7 اکتوبر 2023 کے بعد منظرنامہ بدل گیا:
    حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے حماس کی سیاسی اور عسکری قیادت کو برابر نشانہ بنانے کی پالیسی اختیار کی، چاہے وہ غزہ میں ہو یا بیرونِ ملک۔

  3. دوحہ میں مبینہ اسرائیلی حملہ:
    اسرائیلی میڈیا اور کچھ غیرمصدقہ رپورٹس کے مطابق، اسرائیل نے قطر میں موجود حماس رہنماؤں کو ہدف بنایا یا ایسی کارروائی کا منصوبہ بنایا۔ اس پر قطر نے شدید ردعمل دیا اور اسے “بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی” قرار دیا۔


قربت کے باوجود تلخی کی وجوہات

  • قطر حماس کو دہشت گرد تنظیم تسلیم نہیں کرتا، جبکہ اسرائیل اور اس کے اتحادی اسے دہشت گرد گروہ مانتے ہیں۔

  • قطر کی مالی امداد اور سیاسی سرپرستی کو اسرائیل دوہرا معیار قرار دیتا ہے — ایک طرف ثالثی، دوسری طرف ہمدردی۔

  • قطر عالمی سطح پر غیرجانب داری کی پالیسی پر گامزن ہے، مگر اسرائیل کو یہ غیرجانب داری اکثر حماس نوازی محسوس ہوتی ہے۔


طے پر اثرات

  • سفارتی تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

  • قطر ثالثی کا کردار چھوڑنے پر مجبور ہو سکتا ہے، جس سے غزہ اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی امن عمل کی راہ مسدود ہو سکتی ہے۔

  • مشرق وسطیٰ میں درپردہ تعلقات کا توازن بگڑ سکتا ہے، کیونکہ قطر جیسے ملک پر براہ راست حملہ نئی مثال قائم کرتا ہے۔

قطر اور اسرائیل کے درمیان کوئی رسمی اتحاد نہیں، مگر غزہ کے مسئلے پر عملی اشتراک موجود تھا۔
لیکن حماس کی قیادت کی موجودگی، اور اسرائیلی سلامتی خدشات نے اس تعلق کو کشیدگی میں بدل دیا۔

یہ ایک بڑی سفارتی آزمائش ہے، کیونکہ اگر ثالثی کے کردار پر بھی حملے ہونے لگیں، تو پھر امن کی گنجائش باقی نہیں رہتی — صرف جنگ باقی رہ جاتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں