فلسطینی ریاست کا قیام: ایک ناگزیر اور مقدس حق، جسے کوئی روک نہیں سکتا
اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ اعلان کہ فلسطینی ریاست کبھی نہیں بننے دی جائے گی، ایک ایسا دعویٰ ہے جو حقیقت کے منافی ہے۔ فلسطینی عوام کی جدوجہد، ان کا حق خودارادیت اور آزادی کی تحریک اتنی مضبوط ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔
یہ صرف ایک سیاسی یا سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی، اخلاقی اور دینی حق ہے جسے ماننا اور تسلیم کرنا لازم ہے۔
حق فلسطین: تاریخی اور بین الاقوامی تناظر
فلسطینی عوام صدیوں سے اپنی زمین پر حقِ ملکیت اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
یہ حق اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں میں بھی تسلیم کیا جا چکا ہے، جن میں خاص طور پر قرارداد 181 اور قرارداد 194 شامل ہیں، جن میں فلسطینی عوام کے لیے ایک خودمختار ریاست کی تشکیل کی بات کی گئی ہے۔
دنیا بھر کی اقوام اور عالمی ادارے فلسطینی حق خودارادیت کو تسلیم کرتے ہیں اور انہیں انصاف دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دینی اور قرآنی نقطہ نظر
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“اور جو لوگ اپنے رب کے راستے میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں۔”
(سورۃ آل عمران: 169)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم اور جبر کے خلاف جدوجہد کرنے والے لوگ کبھی مردہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ اپنے مقصد کی خاطر زندہ ہیں اور ان کی قربانیوں کا اجر اللہ کے پاس محفوظ ہے۔ فلسطینی شہدا کی قربانیاں اس راستے کی روشنی ہیں، جو فلسطین کی آزادی کی طرف لے جاتی ہیں۔
مزید برآں، قرآن کی تعلیمات میں ظلم کے خلاف کھڑا ہونا، مظلوم کی حمایت کرنا اور حق کا تحفظ کرنا فرضِ ایمان ہے:
“اور انصاف کرو، بے شک انصاف تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔”
(سورۃ المائدة: 8)
فلسطینیوں کا حق خودارادیت کا دفاع اسی اسلامی اصول پر قائم ہے کہ ہر انسان کو اس کا حق ملنا چاہیے، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔
فلسطینی ریاست کی ناگزیر حقیقت
-
فلسطینی قوم کی شناخت اور وطن سے محبت تاریخی اور لازوال ہے۔
-
ظلم، جبر اور طاقت کے باوجود فلسطینی عوام اپنی آزادی کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔
-
عالمی برادری، خاص طور پر عرب اور مسلم ممالک، فلسطینی حق کے تحفظ کے لیے کھڑے ہیں۔
-
تاریخ گواہ ہے کہ جبر اور قبضہ ہمیشہ عارضی ہوتے ہیں، اور حق کی فتح یقینی ہوتی ہے۔
فلسطین کے حق میں عالمی آواز
آج دنیا بھر میں فلسطینی عوام کی حمایت میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ لاکھوں لوگ فلسطینی حقوق کے لیے ریلیاں کرتے ہیں، حکومتیں اور تنظیمیں فلسطین کی حمایت میں قراردادیں پاس کرتی ہیں۔
یہ ایک عالمی تحریک ہے جو ظلم کے خلاف انصاف کی جدوجہد کو تقویت دیتی ہے اور فلسطینی ریاست کی تشکیل کو ناگزیر بناتی ہے۔
امن کی راہ میں فلسطینی ریاست کی اہمیت
فلسطینی ریاست کا قیام مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کی کنجی ہے۔
جب فلسطینیوں کو ان کا جائز حق دیا جائے گا تو خطے میں دیرپا امن، دوستی اور باہمی تعاون کے راستے کھلیں گے، جو نہ صرف فلسطینیوں بلکہ پورے خطے کے لیے خوشحالی کا سبب بنیں گے۔
نتیجہ: کوئی بھی فلسطینی ریاست کے قیام کو روک نہیں سکتا
یہ بات بالکل واضح ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام ایک ناقابلِ روک، ناگزیر حقیقت ہے۔
ظلم، جبر یا کسی سیاسی طاقت کی کوئی حد تک کوششیں فلسطینیوں کے حق کو مٹانے میں کامیاب نہیں ہوں گی۔
یہ آزادی کا سفر جاری رہے گا اور فلسطینی عوام کی فتح یقینی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وعدہ فرمایا:
“اور اللہ کی مدد کے ساتھ جیت ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتی ہے۔”
(قرآن مجید)n




