“قطری وزارت خارجہ کا واضح اعلان: نیتن یاہو کو اپنے حملوں اور اقدامات کا جواب دینا ہوگا!”
“اسرائیلی حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، قطری عوام کے ساتھ ہیں۔”
“قطر کی جانب سے نیتن یاہو کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اپنے جارحانہ حملوں اور پالیسیوں کا جواب دیں!”
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے ماحول کے درمیان قطری وزارت خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ انہیں اپنے حالیہ فوجی حملوں اور جارحانہ اقدامات کا حساب دینا ہوگا۔ یہ بیان دوحہ سے اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی برادری امن کی بحالی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے مگر حالات تشویشناک حد تک بگڑتے جا رہے ہیں۔
قطری وزارت خارجہ کا موقف:
قطری وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نیتن یاہو کی پالیسیوں اور فوجی کارروائیوں نے نہ صرف فلسطینیوں کی جان و مال کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ خطے میں امن کے امکانات کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور نیتن یاہو کو ان کے نتائج کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا۔
وزارت نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ایسے غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
عالمی اور علاقائی اثرات:
قطر کے بیان نے مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سیاسی دباؤ کو اجاگر کیا ہے۔ قطر نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کی جارحیت خطے کے استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے، جس کے اثرات صرف فلسطینی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ پورے مسلم دنیا میں تناؤ اور عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔
قطری وزارت خارجہ نے عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی پالیسیوں کا سخت نوٹس لیں اور نیتن یاہو کو اس سلسلے میں جوابدہ ٹھہرائیں تاکہ امن کی کوششیں کامیاب ہو سکیں۔
مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کی موجودہ صورتحال:
فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں گزشتہ کچھ عرصے سے زور پکڑ چکی ہیں، جس سے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ کئی علاقوں میں بنیادی سہولیات بھی تباہ ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ تنازعات خطے کے دوسرے ممالک میں بھی اثر انداز ہو رہے ہیں، جس سے مجموعی طور پر علاقائی امن متاثر ہو رہا ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے مطابق، اس صورتحال میں نیتن یاہو کی سخت پالیسیوں نے امن کے امکانات کو ختم کر دیا ہے اور مسئلہ فلسطین کے پرامن حل کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔
قطر کی سفارتی کوششیں اور امن کی کوششیں:
قطر ہمیشہ سے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کا حصہ رہا ہے۔ دوحہ نے متعدد مواقع پر فلسطینیوں کی حمایت کی ہے اور امن مذاکرات کے لیے پل کا کردار ادا کیا ہے۔ قطر کا کہنا ہے کہ صرف فوجی طاقت اور جارحیت کے ذریعے مسئلہ فلسطین حل نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ ایک سیاسی اور سفارتی مسئلہ ہے جس کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ قطری وزارت خارجہ کا یہ بیان نیتن یاہو اور اسرائیلی حکومت پر عالمی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے تاکہ وہ اپنے اقدامات کا از خود جائزہ لیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت قدم اٹھائیں۔ اس بیان کو ایک پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے کہ خطے کے ممالک اسرائیل کی پالیسیوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
قطری وزارت خارجہ کا نیتن یاہو کو دیا گیا یہ سخت انتباہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی پیچیدہ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے اسرائیلی اقدامات کا از سر نو جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ مؤثر سفارتی کردار ادا کرے تاکہ نہ صرف فلسطینیوں کا حقِ حیات محفوظ رہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔



