“دنیا کی سب سے بڑی طاقت نے چہرہ بدل لیا — امریکہ نے ’محکمہ دفاع‘ کا نام ’محکمہ جنگ‘ رکھ دیا!”

“محکمہ دفاع نہیں، اب صرف جنگ ہوگی!” — ٹرمپ کا نیا امریکی بیانیہ

واشنگٹن: ایک حیران کن اور غیر متوقع فیصلے میں، امریکی حکومت نے اپنے سب سے اہم ادارے “Department of Defense” یعنی “محکمہ دفاع” کا نام تبدیل کر کے “Department of War” (محکمہ جنگ) رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ عالمی اور ملکی سطح پر شدید بحث کا باعث بن گیا ہے، کیونکہ یہ تبدیلی نہ صرف امریکہ کی عسکری پالیسی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس کے عالمی عزائم پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔

🔹 تاریخی پس منظر:
امریکہ نے 1949 میں “Department of War” کا نام بدل کر “Department of Defense” رکھا تھا تاکہ ایک “دفاعی” امیج پیش کیا جا سکے، خاص طور پر سرد جنگ کے دوران۔ اب 75 سال بعد، اس پرانے نام کی بحالی دنیا بھر میں نئی بحث چھیڑ رہی ہے۔

🔹 حکومتی مؤقف:
امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام “شفافیت” اور “حقیقت پسندی” کے تحت کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “ہم دنیا بھر میں صرف دفاع نہیں کرتے، بلکہ جنگی حکمتِ عملی بھی اپناتے ہیں، اور ہمیں اپنا اصل کردار تسلیم کرنا چاہیے۔”

🔹 عوامی و عالمی ردعمل:
دنیا بھر میں ماہرینِ سیاست، امن پسند ادارے، اور اقوامِ متحدہ کے نمائندے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عالمی طاقت کے استعمال کو جواز فراہم کرنے کی ایک نئی کوشش ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں